26 فروری، 2026، 8:15 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

جنیوا مذاکرات پر عالمی میڈیا کا محتاط ردعمل، بنیادی اختلافات حل کرنے پر تاکید

جنیوا مذاکرات پر عالمی میڈیا کا محتاط ردعمل، بنیادی اختلافات حل کرنے پر تاکید

عالمی میڈیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے ساتھ عالمی میڈیا نے اس عمل کو محتاط امید اور خدشات کے امتزاج کے ساتھ رپورٹ کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ تر ذرائع مذاکرات کے نتائج کے بارے میں نہ مکمل پرامید ہیں اور نہ ہی مکمل مایوس، بلکہ مذاکرات کو ایک نہایت نازک اور پیچیدہ عمل قرار دے رہے ہیں جس میں پیش رفت کے لیے بنیادی اختلافات کا حل ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

رائٹرز

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران مذاکرات میں نسبتا لچکدار رویہ اختیار کرسکتا ہے تاکہ ممکنہ فوجی دباؤ سے بچا جاسکے، جبکہ دوسری جانب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا کر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ رپورٹ میں امریکی سینیٹر مارکو روبیو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے انکار ایک بڑی رکاوٹ ہے جسے حل کیے بغیر جامع معاہدہ مشکل ہوگا۔

دی گارڈین

برطانوی اخبار گارڈین نے مذاکرات کو سیاسی اور عسکری دباؤ کے توازن کے تناظر میں دیکھا ہے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمان کا کردار اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کی نگرانی مذاکرات کی ساکھ بڑھانے میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کے لیے جوہری افزودگی کو پانچ فیصد سے کم سطح تک محدود کرنے کی تجویز اگرچہ نسبتا نرم سمجھی جا رہی ہے، لیکن فوری طور پر پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت نہ ہونا مذاکرات کی کمزوری تصور کی جا رہی ہے۔

بی بی سی عربی

برطانوی ادارے نے مذاکرات کی تصویر کو کئی تہوں پر مشتمل، متوازن اور جامع انداز میں پیش کیا ہے جس میں ایک طرف ایران کے صدر کے مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں پرامید لہجے کو نمایاں اور دوسری طرف امریکہ کی نئی پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق تہران منصفانہ معاہدے کے لیے آمادگی کا اظہار کر رہا ہے، وہیں واشنگٹن نے بیک وقت ایران کے تیل اور دفاعی صنعت سے وابستہ 30 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ صورتحال امریکہ کی مذاکرات کے ساتھ دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

بی بی سی نے باہمی فوجی دھمکیوں کا بھی ذکر کیا ہے، جن میں ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملے کی وارننگ اور واشنگٹن میں حملے کے خطرات پر اندرونی مباحث شامل ہیں، اور اس نے ممکنہ علاقائی جنگ کے پہلوؤں کو بھی اپنے تجزیے کا حصہ بنایا ہے۔

نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار نے اس معاملے پر نسبتاً محتاط تجزیہ پیش کیا ہے۔ اخبار کے مطابق مذاکرات خطے میں جنگ اور امن کے مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی امریکہ کی بڑی فوجی موجودگی اور بار بار کی جانے والی دھمکیوں کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے سفارتی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایسی تجاویز پیش کی ہیں جن میں جوہری افزودگی کو عارضی طور پر روکنا اور اسے طبی مقاصد کے لیے 1.5 فیصد تک کم کرنا شامل ہے۔ تاہم اخبار نے مذاکراتی چیلنجز کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام اور خطے میں موجود حلیف گروہوں کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

نیویارک ٹائمز نے مارکو روبیو کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو ٹرمپ کے پاس محدود فوجی حملے، وسیع پیمانے پر جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملوں سمیت کئی فوجی آپشن موجود ہوسکتے ہیں۔

سی این این

امریکی چینل نے سفارت کاری اور فوجی تیاری کے درمیان توازن پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چینل کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، تاہم اگر جنگ شروع ہوئی تو مشرق وسطی میں موجود تمام امریکی اڈوں کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

سی این این کے تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوسکتا ہے۔ حالیہ مذاکرات ایک فیصلہ کن مرحلہ تصور کیے جارہے ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب عراق جنگ کے بعد سے خطے میں امریکہ کی سب سے بڑی فوجی سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس

امریکی خبر ایجنسی نسبتاً غیر جانبدارانہ نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ یہ امریکی اداره مذاکرات کو کشیدگی کم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام کا جائزہ لینے کے مقصد سے جاری عمل قرار دیتا ہے۔ ادارے کے مطابق ایرانی فریق چاہتا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری مسئلے تک محدود رہیں اور پابندیوں کے خاتمے کو کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط بنایا جائے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر مذاکرات جوہری ہتھیاروں کی توسیع نہ کرنے پر مرکوز رہیں تو فوری معاہدہ ممکن ہے۔ ایران کے نزدیک امریکی حکام کی جانب سے کسی بھی متضاد پیغام سے مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

لوموند

فرانسیسی اخبار لوموند نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد کشیدگی میں اضافہ روکنا اور کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ اخبار نے ایران کے صدر کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران مذاکرات کے بارے میں مثبت سوچ رکھتا ہے اور موجودہ "نہ جنگ نہ صلح" کی صورتحال کو سفارتی پیش رفت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ لوموند نے ساتھ ہی ایران پر اندرونی اور بیرونی دباؤ کا بھی ذکر کیا ہے۔

مارکو روبیو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت سے انکار ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مذاکرات کی تصویر متضاد دکھائی دیتی ہے؛ ایک طرف ایران پرامن جوہری افزودگی پر زور دیتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کی فوجی دباؤ کی پالیسی اور میزائل پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ مذاکراتی ماحول کو کشیدہ بنا رہا ہے۔

الجزیرہ

قطر کے نیوز چینل نے جنیوا مذاکرات کی کوریج میں سفارتی کوششوں اور فوجی دھمکیوں کے بیک وقت جاری رہنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چینل کے مطابق عمان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریق نئے اور تخلیقی حلوں پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کار نئے خیالات کے لیے کھلے ہیں، تاہم ساتھ ہی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

چینل نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے کہا ہے کہ کسی بھی فریق کی مکمل فتح ممکن نہیں ہوگی اور جنگ کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

العربیہ

العربیہ نے اپنی رپورٹ میں جنیوا مذاکرات کو سفارتی پیش رفت کے لیے ایک موقع کے طور پر مثبت امید ظاہر کی ہے، جبکہ خبر کے متن میں امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

سعودی چینل نے امریکی عہدیدار اسٹیو وٹکوف کے اس بیان کو رپورٹ کیا کہ ممکنہ معاہدہ مستقل نوعیت کا ہونا چاہیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن محدود مدت کے بجائے طویل المدتی معاہدہ چاہتا ہے۔

اناتولی

اناتولی نیوز ایجنسی نے مذاکرات کو تجزیاتی انداز میں پیش کرتے ہوئے کشیدہ اور نازک صورتحال کو نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمان کا فعال سفارتی کردار مذاکرات کو سیاسی اور فنی سطح کے مسائل کے درمیان مربوط کرنے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اناتولی نے امریکہ کے زیادہ سے زیادہ مطالبات بھی رپورٹ کیے ہیں جن میں جوہری افزودگی کو مکمل روکنا، افزودہ یورینیم ذخائر کو بیرون ملک منتقل کرنا اور میزائل پروگرام کو مذاکراتی ایجنڈے سے نکالنا شامل ہے۔

آئی 24 نیوز

صہیونی چینل نے مذاکرات کے بارے میں نسبتا مختلف اور تشویش پر مبنی تصویر پیش کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اب بھی خدشات اور ابہام موجود ہیں۔

آئی 24 نیوز نے مارکو روبیو کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اس وقت جوہری افزودگی نہیں کررہا، لیکن وہ ایسی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے کہ مستقبل میں دوبارہ افزودگی شروع کر سکے۔ چینل نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کے شواہد موجود ہیں۔ اگر جوہری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے میزائل پروگرام پر بات چیت بھی مشکل ہو جائے گی۔

ٹائمز آف اسرائیل

ٹائمز آف اسرائیل نے مذاکرات کو امریکی صدر کے فوجی یا سفارتی فیصلے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران سے یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے کہا ہے کہ مذاکرات کے اس دور کے نتائج ٹرمپ کے ممکنہ فوجی فیصلوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اخبار نے عمان کے ثالثی کردار اور مذاکراتی ٹیموں کی موجودگی کو جنگ روکنے اور معاہدہ حاصل کرنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

آر ٹی نیوز 

روسی نشریاتی ادارے آر ٹی نیوز نے نسبتا متوازن مگر معاہدے کے امکانات کو نمایاں انداز اپنایا ہے۔ ادارے نے عمان کی ثالثی میں مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے مسقط کے فعال سفارتی کردار کو مذاکرات کی تیاری میں اہم قرار دیا ہے۔

آر ٹی نے مذاکرات کو ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا ہے جو دونوں فریقوں کو عمومی پوزیشن بیان کرنے سے ہٹا کر تکنیکی مذاکرات کی طرف لے جاسکتا ہے۔

ادارے نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں مثبت بیانات کو بھی رپورٹ کیا ہے، تاہم میزائل پروگرام سے متعلق اختلافات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

حاصل سخن

مختلف رپورٹس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی میڈیا نے جنیوا مذاکرات کی متضاد اور بعض اوقات متناقض تصویر پیش کی ہے۔ مغربی میڈیا زیادہ تر محتاط امید کے ماحول اور سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دباؤ کی حکمت عملی پر زور دیتا ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے ایران کی لچک اور امریکہ کے دباؤ کو بیک وقت نمایاں کیا ہے۔ علاقائی عرب میڈیا نے سفارتی مواقع اور خطرات کے درمیان کشمکش کو اجاگر کیا ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے واضح تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کو اپنی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔

مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر خبری اداروں نے نہ مکمل پرامیدی کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی مکمل مایوسی کا۔ ان رپورٹس میں ایک مشترکہ نکتہ مذاکرات کی نازک صورتحال، معاہدے تک پہنچنے کی مشکل اور سفارتی عمل کے پس منظر میں فوجی آپشن کے موجود ہونے پر زور دینا ہے۔

مذاکرات کو اگرچہ کشیدگی میں کمی کا ایک موقع سمجھے جا رہا ہے، لیکن ان کے سامنے پیچیدہ راستہ موجود ہے۔ مذاکرات کا نتیجہ فریقین کی اس خواہش پر منحصر ہوگا کہ وہ برسوں سے جمع شدہ عدم اعتماد کے وسیع دائرے کو کس حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایران کی طرف سے سفارتی حل کی خواہش موجود ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ بھی معاہدے کی سمت بڑھنے کے لیے تیار ہے یا زیادہ سے زیادہ مطالبات مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بنیں گے۔

News ID 1938285

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha